I Am Not in Prison


You can send me behind bars but you cannot arrest my brain. I have already transferred my personal thoughts, for the kids under twelve years, in my First Urdu Book  in the year 2013, its English version is my Second Book Kindle Edition in the year 2015 and my Third Book in English in the same year for matured people. Now I am on the way to writing my Fourth Urdu Book, my Goal for September,2016.

IMG-20160112-WA0000

Introduction of upcoming book is:

 کتاب کا  تعارف  

بارہ سال کی عمر تک کے بچّے اپنے والدین یا اُن بڑوں کے عقائد کی پیروی کرتے ہیں جو اُن کو پالتے ہیں، اِس لئے نہیں کہ وہ محض مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں  ، بلکہ ان بچوں کو اپنے جیسا انسان بنانا بھی  والدین اور پالنے والوں کی فطرت میں شامل ہوتا ہے۔ یعنی خالقِ کائنات کا تصور و نظریہ ، اپنی خود کی زندگی کا مقصد اور دیگر مخلوق کے ساتھ رویّے کے بارے میں سادے اُصول ہی بنیادی طور پر کسی کا عقیدہ کہلاتا ہے۔ عموماً بارہ سال کی عمر تک تو والدین یا پالنے والے ذمہ داران اپنا حق و فریضہ سمجھ کر یہ کام سر انجام دیتے ہیں ، بچّہ کے پاس بھی ایک ہی اختیار ہوتا ہے کہ وہ مِن و عن ہر بات تسلیم کرتا چلا جائے ورنہ یا تو مار پڑے گی یا گھر سے نکال دیا جائے گا۔ بارہ سال سے زائدعمر ہونے کے بعدبچے کی فہم و فراست میں کچھ تخلیقی عناصر جنم لینا شروع کردیتے ہیں جو مندرجہ بالا نظریات کے بارے میں سوالات اُٹھانے کے ساتھ اپنی سوچ یا بیرونی عوامل کے باعث کشمکش و اضطرابی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب کسی بھی بچے کی شخصیت میں نہایت ہی نمایاں تبدیلی آنی شروع ہو جاتی ہے۔ اسی منطق کے تحت میں نے پہلے بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے گھر سے لیکر باہر پورے معاشرے میں ادب و آداب کےسلیقے اور معاشرے کو بہتر بنانے کیلئے “اچّھے شہری بنیں” کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں بچّے کی اپنی سوچ کا کوئی نمایاں کردار نہیں ہوتا۔پاکستان کے مایہ ناز پیرا ماؤنٹ پبلشرز کے روحِ رواں جناب اقبال صالح محمد صاحب کی ہمت افزائی و کاوشوں کے باعث میری اس کتاب کو خاصی پذیرائی ملی اور مزید مل رہی ہے جس کے باعث میری اپنی شخصیت میں عمر کے ۷۰ ویں سال کو چھوتے ہوئے بھی میں خاصی تبدیلی محسوس کر رہا ہوں اور اسی مثبت تبدیلی کے تحت تمام زندگی کا نچوڑ اپنے بعد کی نسل کیلئے اپنا ایک اور پیغام اس موجودہ کتاب کی شکل میں چھوڑ کر ذہنی و قلبی سکون حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

بارہ سال فرماں برداری کے بعد  سوچ میں جو تبدیلی آنا شروع ہوتی ہے اُس میں سب سے پہلے نافرمانی کا عنصر جنم لیتا ہے جس کی وجہ سزا و جزاء کا تصور ایک اہم اور پہلا نکتہ ہوتا ہے۔ یہ کوئی منفی علامت نہیں بلکہ آگے بڑھنے کی ایک جستجو  کا اہم ستون ہے۔ اسی عنصر کے مدِّ نظر ایک اہم سوال پہلے تو اُس کو باغیانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے جس کے تحت وہ ہر غلط بات کرنے کی جانب مائل ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میری بھی ایک شناخت ہے اور میں اپنی سوچ کے تحت صحیح یا غلط فیصلہ کرنے کا مجاز ہوں ، میرے والدین یا میرے بڑے میری اپنی آزادانہ زندگی گزارنے پر قدغنیں لگا کر میری صلا حیتوں کو محدود کرنے کا اختیاراب نہیں رکھتے اور پھر کون ہے جو میرا احتساب کرے میں خود  اپنے بارے میں بہتر فیصلے  کرنے کے قابل ہو رہا ہوں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں والدین اور متعلقہ بڑوں کو بہت احتیاط سے کام لیتے ہوئے اس بچے کی سوچ کی آزادی مکمل طور پر سلب کرنے کے بجائے آزادیئ اظہار کی رفتہ رفتہ اجازت دینے کے ساتھ تبادلہء خیال بھی کرنا چاہئے تاکہ بچہ کی مثبت و منفی سوچ پوری طرح عیاں ہو سکے لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ نیز بچّے کے متعلقہ بڑوں میں اس کے تعلیمی ادارے کے افراد بھی ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے اور والدین یا گھر کے بڑے افراد کے درمیان ایک نظریاتی اختلافِ رائے بھی کھل کر سامنے آنا شروع ہو جاتا ہے جو بچے کی سوچ کو مزید تجسس میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اب یہاں سے بچے کا اپنا امتحان شروع ہوتا ہے۔

میری اس کتاب کی ضرورت اس مقام پر پڑتی ہے کیونکہ اب اس کے پاس کشمکش و اضطرابی کیفیت سے نکلنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ والدین یا اپنے بڑوں کی نافرمانی  کی سزا ، فرمانبرداری یا کوئی اچھا کام کرنے پر شاباش کو بارہ سال سے زائد عمر کے لوگوں کو جنت کے انعام و دوزخ کی سزا سے تشبیہ دیکر سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو فوراً ہی خالقِ کائنات کا تصور اُبھر کر ذہن میں آتا ہے لیکن چھوٹے سے ذہن میں ایک لامحدود شے کیسے سما سکتی ہے جس کا آج تک کوئی خاکہ بھی نہ بنا سکا البتہ کائنات  کی لا محدودیت تو اب راز نہ رہی پس اس کو تخلیق کرنے والا کسقدر لامحدود ہوگا اس کا بھی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ نتیجتاً بہتر یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کریں جو ایک محدود تخلیق ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کا مقصد خود بخود سمجھ میں آنا شروع ہو جائیگا۔

یہ ہے وہ مقصد جس کے تحت میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s